زحل کے حلقے، بَعض لوگوں کیلئے دِلکش اور کچھ کیلئے خوفناک

میرے خطّے کے اکثر ساتھیوں نے اپنے والدین یا عزیزواقارب سے یہ بات بار ہا سنی ہوگی کہ “زحل ہمارے بُرج میں داخل ہوگیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ساتھ کوئی نہ کوئی بَد شگُونی ہونے والی ہے”۔

میں ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتا چلوں کہ زحل (عطارد، زوہرہ، زمین، مریخ اور مشتری کے بعد) ہمارے نظامِ شمسی کا چھٹا سیارہ ہے۔ اس سیارے کے گرد حلقے بھی ہیں جو اسے بَعض لوگوں کے لئے دِلکش اور کچھ کے لئے خوفناک بناتے ہیں۔

انسان کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ جس چیز سے وہ واقف نہیں ہوتا اِس سے یا تو خوفزدہ ہوجاتا ہے یا اس کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلے زمانے میں انسان نے جب آسمان میں اس سیارے پر غوروفکر شروع کیا تو کچھ لوگوں نے پوری انسانیت کو اس طرح بہکانا شروع کردیا کہ ہر عام انسان ان کی باتیں سن کر خوفزدہ ہوجاتا۔ ان لوگوں نے دنیا کو زحل کی ایسی تعریف بتائی کہ “اس سیارے کے گرد حلقے ہیں اور باقی کسی آسمانی چیز کے گرد نہیں ہیں، اس کا مطلب کہ یہاں خطرہ ہے”۔ پوری دنیا میں سے تہمات اور اثرات پر یقین رکھنے والے لوگ ان کی باتوں میں آ گئے لیکن ان لوگوں میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو زحل کے حلقوں سے ڈرنے کی بجاۓ یہ سوچنے لگے کہ یہ حلقے بنے کیوں ہیں؟ بس ان چند لوگوں کی یہی سوچ باقیوں پر غالب آ گئی اور آج ہم سیارہ زحل اور اس کے بہت سے چاندوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ ابھی تک انسان خود تو زحل تک نہیں گیا مگر اسی کی بھیجی گئی خلائی گاڑی “کسینی” پہنچ گئی ہے۔ اس خلائی گاڑی نے سینکڑوں تحقیقات کیں اور لاکھوں سالوں سے اس سربستہ راز سے پردہ اٹھایا۔

آج کسینی کو زمین سے خلاء میں بھیجے تقریباً بیس سال بیت گئے ہیں لیکن اگر تحقیقات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ان بیس سالوں میں کسینی نے پچھلے سو سالوں کے مفروضوں کو بھی صحیح ثابت کردیا ہے۔

کسینی خلائی گاڑی کو ١٥ اکتوبر ؁۱۹۹۷ء کو زمین سے خلاء میں بھیجا گیا۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کوئی بھی خلائی گاڑی زمین کے کششِ ثقل سے ایک دم ہی باہر نہیں نکل سکتی بلکہ اسے زمین کے گرد گھومتے گھومتے اپنے چکر کو وسیع کرتے رہنا پڑتا ہے یہاں تک کہ وہ زمینی کشش سے آزاد ہوجاتی ہے۔ کسینی خلائی گاڑی نے بھی ایسا ہی کیا۔ یہ بتدریج اپنے چکر کو وسیع کرتی رہی اور تقریباً ٧ سالوں بعد زحل کے گرد کسینی پہلی خلائی گاڑی بن گئی۔

کسینی نے زمین سے زحل تک کی اپنی ٹراجکٹوری کچھ اس طرح بنائی کہ یہ زمینی چاند، سیارہ زوہرہ اور مشتری کے پاس سے ہوتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچی۔اس سے پہلے بھی کچھ خلائی گاڑیوں کو زحل کے گرد بھیجا گیا پر وہ زحل کی کشش میں چکر لگانے میں ناکام رہیں مگر کسینی نے یکم جولائی ؁۲۰۰۴ء کو یہ پہلا “اَربیٹل اِنزرشن” (Orbital Insertion) کا  مرحلہ عبور کیا۔

ہم میں سے بہت سو کے ذہن میں یہ سوال بھی آیا ہوگا کہ اس خلائی گاڑی کا نام “کسینی” ہی کو رکھا گیا ہے؟ دراصل، اس خلائی گاڑی کا نام سائنسدان “گیووانی ڈومنیکو کسینی” کے نام پر رکھا گیا۔ اسی سائنسدان نے دنیا کو اس بات سے باور کرایا تھا کہ زحل کے گرد ایک بڑا حلقہ تو ہے پر اس ایک حلقے میں بہت سے حلقے موجود ہیں۔

؁۱۹۹۰ء  میں سائنسدانوں نے جب کسینی خلائی گاڑی کو زحل کے گرد مشن پر بھیجنے کا سوچا تو “ایک تیر سے دو شکار” کرنے کی کوشش کی اور ان کی یہ کوشش آج کامیاب ہوگئ ہے۔ وہ کوشش یہ تھی کہ کسینی خلائی گاڑی کے ساتھ ایک اور چھوٹا خلائی لینڈر لگا دیا جائے۔ اس لینڈر کا نام بھی ایک سائنسدان “کرسچین ہاۓگینز” کے نام پہ ہاۓگینز لینڈر رکھا گیا۔ اس سائنسدان نے زحل کے سب سے بڑا چاند “ٹائٹن” کی دریافت کی تھی۔ اب تو آپ جان چکے ہوں گے کہ سائنسدانوں نے خلائی گاڑی کے ساتھ یہ ہاۓگینز لینڈر کیوں لگایا تھا؟ اگر ابھی بھی نہیں پتا چلا تو میں بتا دیتا ہوں۔ یہ لینڈر اس لئے لگایا گیا تاکہ یہ کسینی خلائی گاڑی کے زحل کے گرد پہنچنے کے بعد اس سے علیحدہ ہوکر ٹائٹن پر جااترے۔

یکم جولائی ؁۲۰۰۴ء کو کسینی خلائی گاڑی کے زحل کے گرد پہنچنے کے بعد ٢٥ دسمبر ؁۲۰۰۴ء کو ہاۓگینز کسینی سے الگ ہوا اور ١٥ جنوری ؁۲۰۰۵ء کو ٹائٹن کی سطح پر اترا۔ اسی کے ساتھ ہی ہاۓگینز تاریخ میں وہ پہلی چیز بن گیا جو بیرونی نظامِ شمسی میں کسی سرزمین پر اتری ہو۔ ٹائٹن کی فضاء میں موجود “کاربن ڈائی آکسائڈ” کے گہرے بادلوں کو چِیرتا ہوا یہ لینڈر ٹائٹن کی سطح پر اترا اور جب تک اس میں موجود بیٹری نے ساتھ دیا، تب تک یہ لینڈر زمینی انٹینوں تک ریڈیائی لہروں کے زریعے ٹائٹن کی لی گئی تصویریں بھیجتا رہا۔

سائنسدانوں نے یہ بات معلوم کرلی کہ ٹائٹن پر مائع حالت میں موجود تو ہے لیکن پانی نہیں “میتھین” (ہائیڈروکاربن کا سب سے چھوٹا ذرّہ جو زمین پر گیس کی شکل میں پایا جاتا ہے)۔

ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے “ہنٹر ویٹ” کہتے ہیں کہ:-

“ٹائٹن پر پٹرول کی بہت سے تہیں موجود ہیں۔ اگر آپ انہیں استعمال کریں تو آپ کو تیل کی کمی کبھی بھی نہیں ہوگی”

مزید یہ کہ اس چاند پر موسم وغیرہ بھی دیکھنے گئے ہیں کیونکہ اس پر مکمل فضا موجود ہے۔

ہاۓگینز کو ٹائٹن کی طرف سفر پر روانہ کرنے کے بعد کسینی خلائی گاڑی نے اس گیس نے گولے کے گرد چکر لگاتے ہوئے مختلف نظریوں کو سچ اور بہت سو کو غلط بھی ثابت کیا۔ کسینی مشن کا سب سے اہم مقصد یہ تھا کہ زحل کے حلقوں کی اصلیت جاننا۔

کسینی خلائی گاڑی نے ہمیں بتایا کہ دور سے نظر آنے والے حلقے اصل میں کسی بڑے چاند کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں۔ یہ چاند زحل کی شدید کشش کی وجہ سے ٹکڑے ہوگیا۔ ان چھوٹے ٹکڑوں کو “مونلیٹس” یعنی چھوٹے چاند کہا گیا۔ ذرا سوچئے کہ ان چھوٹے چھوٹے چاندوں کے ملنے سے اس قدر خوبصورت حلقوں کا وجود میں آنا قدرت کا شہکار ہے۔

کسینی زحل نے چاندوں کے پاس سے بھی گزری اور ان کی تصاویر بھی وقفے وقفے سے زمین کی طرف بھیجتی رہی۔ ٹائٹن پر تو ہاۓگینز لینڈر کو بھیج دیا پر باقیوں پر نہیں۔ اس لئے کسینی نے ان تمام کی قریب ترین تصاویر لیں۔

انسلداس، جو کے زحل کا برفیلے چاندوں کی فہرست میں شامل ہے، کے پاس سے جب کسینی خلائی گاڑی گزری تو سائنسدانوں کے مشاہدے میں ایک عجیب چیز آئی کہ جیسے کوئی باہری دنیا کا بارشندہ اس چاند کے جنوبی قطے پر بیٹھا ٹارچ سے روشنی پیدا کر رہا ہو۔ یہ بات سائنسدانوں کے لئے بہت حیرت بھری تھی۔ سائنسدانوں نے دوبارہ کسینی کو اس چاند کے پاس سے گزارہ اور اس بار وہ اس بارشندے کی حقیقت سے آشنا ہوئے کہ اس چاند کے جنوبی قطے پر کوئی بارشندہ نہیں بلکہ کھولتے پانی کے چشمے موجود ہیں۔ اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ پانی کی موجودگی محض زندگی کی علامت ہے اس لئے یہاں شاید زندگی کے آثار موجود ہیں۔

اسی دریافت کے بارے میں ایریزونا یونیورسٹی کے “باب براؤن” کہتے ہیں کہ:-

“ہم ایسی جگہیں ڈھونڈھ رہے ہیں جہاں ہمیں چھوٹے حشرات ملیں۔ ہم کسی دانا اور ذہین چیز کے ملنے کی امید نہیں رکھتے لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں زندگی ممکن ہے”

کسینی نے تحقیق کرکے یہ بھی پتا لگایا کہ زحل ایسا سیارہ نہیں ہے کہ اس پر اترا جائے کیونکہ یہ ایک گیس کا بہت بڑا گولا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر ہم زحل کے حجم کے برابر سمندر میں اسے پھینک دیں تو یہ پانی کی سطح تہرے گا یعنی یہ سیارہ پانی سے بھی ہلکا ہے!!

کسینی نے ؁۲۰۰۴ء سے ؁۲۰۰۹ء کے درمیان زحل نے گرد چکر لگتے ہوئے، اس کے مزید سات چاند دریافت کئے۔ یہ چاند حجم میں قدرِ چھوٹے تھے اس لئے زمین سے نہیں دیکھے جاسکے۔ یہ چاند زحل کے حلقوں کی درمیانی خلاء میں موجود تھے۔

کسی بھی مشن کو کام کرنے کے لئے مسلسل فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ امریکی خلائی ادارے کو ؁۲۰۰۸ء میں کسینی مشن کی مدّت کو مزید بڑھانے کی درخواست موصول ہوئی اور تب یہ مشن مزید ستائیس مہینوں کے لئے بڑھا دیا گیا اور اس مشن کو تب “کسینی اعتدال مشن” (Cassini Equinox Mission) کا نام دے دیا گیا۔

فروری ؁۲۰۱۰ء میں دوبارہ اس مشن کی مدّت کو مزید بڑھا دیا گیا اور یہ مدّت ستمبر ؁۲۰۱۷ء تک کر دی گئی۔ اب اس مشن کا نام بدل کر “کسینی راس مشن” (Cassini Solstice Mission) رکھ دیا گیا۔ مدّت کے بڑھ جانے سے مزید تحقیقات کرنے کا موقع ملا اور ؁۲۰۱۰ء  میں کسینی خلائی گاڑی نے زحل کے شمالی نصف کرّہ میں رونما ہونے والے طوفان کی تصاویر لیں۔ یہ طوفان تقریباً ہر تیس سال بعد آتا ہے۔ یہ طوفان کسینی کی بھیجی گئی تصویر میں اس طرح معلوم ہوتا ہے جیسے پانی کی پینٹنگ ہو۔

کسینی میں توانائی کا ذریعہ ایک ردیواکٹو ایمنٹ “پلوٹونیم” ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی توانائی کے ذریعے ہی کسینی زمین تک ریڈیائی سگنلز بھیجتی ہے۔ لیکن یہ توانائی بھی ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور ختم ہو رہی ہے۔

سائنسدان چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ یہ توانائی ختم ہو جائے اور اس خلائی گاڑی کا زمین سے رابطہ منقطع ہوجاۓ، اس سے بہتر ہے کہ اس خلائی گاڑی کو زحل کی فضا میں داخل کرکے تباہ کردیا جاۓ۔ اگر یہ آمر نہ کیا گیا تو یہ خلائی گاڑی توانائی نہ ہونے کی وجہ سے خلاء میں ایک لوہے کا ناکارہ ٹکڑا بن جاۓ گی جو کہ زحل کر گرد چکر لگاتا رہے گا۔ اور عین ممکن ہیں کہ یہ لوہے کا ٹکڑا زحل کے کسی ایسے چاند سے ٹکرا جاۓ جہاں زندگی کے آثار موجود ہوں جو اس کی وجہ سے ناپید ہوجائیں۔

چونکہ کسینی خلائی گاڑی کو زحل کی فضا میں داخل کر دیا جاۓ گا اس لئے ضروری تھا کہ کسینی کو بتدریج زحل کے پاس لایا جائے۔ اس آخری کام کو ایک مشن کا نام دیا گیا جسے “گرینڈ فنالے مشن” کہا گیا۔ اس مشن میں کسینی خلائی گاڑی اپنے چکر کا گھیرا کم کرے گی اور اس کے لئے اسے زحل اور اس کے حلقوں نے درمیانی جگہ سے بھی گزرنا پڑے گا۔

اس گرینڈ فنالے مشن کا آغاز اپریل ؁۲۰۱۷ء سے ہوا اور اختتام میں ١٥ ستمبر ؁۲۰۱۷ء کو (یعنی آج) ہوگا۔ آج اس خلائی گاڑی کو زحل کی فضا میں داخل کردیا جائے گا اور یہ اس کی فضا میں رگڑ کھا کر کسی شہابِ ثاقب کی طرح جل کر راکھ ہوجائے گی۔ اسی کے ساتھ ہی کسینی مشن جو کے بیس سال پہلے زمین سے بھیجا گیا تھا، ختم ہوگیا۔

اکثر لوگ کسینی خلائی گاڑی، جس نے ہم پر اتنی دریافتیں کرنے کا احسان کیا ہے، کے تباہ ہونے پر افسردہ ہیں مگر بہت سے لوگوں کو دلی سکوں ہے کہ وہ سیارے اور اس کے چاندوں کے خدوخال سے آج ہم بخوبی واقف ہیں۔ لیکن ابھی زحل پر تحقیق ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کسینی مشن نے ان تحقیقات کی بنیاد رکھی ہے!! امید ہے کہ مزید انسانی یا غیر انسانی مشن زحل اور اس کے چاندوں پر بھیجے جائیں گے۔

 

 

Share This Post