کیا پاکستان 2022ء میں پہلا انسان خلا میں بھیج دے گا؟

یوں تو پاکستان میں علم فلکیات کے بارے میں عوام اور حکمران دونوں ہی خاموش دکھائی دیتے ہیں لیکن پچھلے چند مہینوں میں کہیں سیاسی مہموں کے دوران “خلائی مخلوق” کا لفظ استعمال ہوا تو کہیں پاکستان کی طرف سے دو مواصلاتی سیٹیلائٹس چین کی مدد سے خلا میں بھیج دی گئیں۔ اب حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام کے سامنے جب بھی خلائی مخلوق کا نام لیا جاتا ہے تو بجائے اس کے کہ اسے سائنسی روسے دیکھا جائے، سیاسی طنز سمجھ لیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ نئی حکومت کے آتے ہی ہمیں بہت سی تازہ خبروں کے ساتھ ٢٥ اکتوبر ٢٠١٨ کو پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چودھری سے یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ پاکستان ٢٠٢٢ تک چین کی مدد سے خلا میں اپنا پہلا خلاباز بھیجے گا۔ یہ خبر آتے ہی پورے سوشل میڈیا پر پھیل گئی اور اس پر بہت سے ماہرین بھی تبصرہ کرتے نظر آئے۔ اگر ہم اس اعلان کی نویت پر غور کریں تو ہمیں اس بات کا بخوبی علم ہوجائے گا کہ یہ پاکستان میں فلکیاتی پیش رفت ہے یا سیاسی دوڑ؟

ہم جانتے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ١٥ اگست ٢٠١٨ کو یوم آزادی کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ “بھارت ٢٠٢٢ تک اپنا پہلا خلاباز خلا میں بھیجے گا”۔ اس بیان کے بعد بھرتی عوام پھولانا سمائی کیونکہ اگر بھارت خلا میں اپنا خلاباز بھیجنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ اس خلائی دوڑ میں امریکا، روس اور چین کے بعد دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ یہ تو تھا سیاسی بیان لیکن کیا واقعی بھارتی خلائی ادارہ، انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن، اس آمر میں کوئی اقدامات کررہا ہے؟ تو جی ہاں، بھارتی خلائی ادارے کے پاس اس وقت اس قدر جدید ٹیکنالوجی موجود ہے کہ وہ خلاباز کو خلا میں پہنچا سکیں لیکن ابھی بہت سے تجربات کے بعد خلاباز کو بھارتی سرزمین سے خلا میں بھیجا جائے گا۔

بھارتی خلائی ادارے نے “ہیومن سپیس فلائٹ پروگرام” تشکیل دیا ہے جس کی پہلی خلائی گاڑی “گگنیان” میں تین بھارتی خلاباز موجود ہوں گے اور انہیں دسمبر ٢٠٢١ میں زمین کے گرد نچلے مدار میں بھیج دیا جائے گا۔ واضع رہے کہ عالمی خلائی سٹیشن، ہبل خلائی دوربین اور باقی انسان کی بنائی ہوئی سیٹیلائٹس بھی زمین کے گرد نچلے مدار میں ہی موجود ہے۔ ان کا گردشی دورانیہ تقریبا ٢ سے 4 گھنٹوں کے بیچ ہوتا ہے۔

اس کے برعکس اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو اس کا حکومتی نظام ١٩٩٠ء کے بعد سے کچھ اس طرح کا ہے کہ اگر پاکستان اپنے ہمسایوں، جس میں قابل ذکر بھارت ہے، میں کوئی حرکت دیکھتا ہے تو اس کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے اس روایتی حریف سے آگے نکلا جائے۔ ایسا ہی کچھ حال دور حاضر میں بھی ہے کہ جیسے ہی بھارت نے ٢٠٢٢ تک اپنا پہلا خلاباز بھیجنے کی بات کی تو اس کے تقریبا دو ماہ بعد پاکستان نے اپنے خلائی ادارے، سپارکو، کی پسماندگی کو بنا کسی خاطر لائے اعلان کردیا کہ ہم بھی خلا میں جانے کے لئے تیار ہیں۔ اس سے پہلے کی بات کی جائے تو یہ خلائی دوڑ جس میں ہمارا مخلص دوست ملک، چین بھارت سے بہت آگے ہے اور وہ چاند تک اپنے خلائی مشن بھیج چکا ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ پاکستان کو سیاسی و خلائی دوڑ میں خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے بھارتی سرگرمیوں کی ہی ضرورت ہے۔

بہرحال اب یہ خلائی دوڑ کی شروعات ہو ہی چکی ہے تو یہ بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ کی طرح انتہائی دلچسپ ہوگی لیکن اس کے ساتھ ہی اگر پاکستان اور بھارت کے خلائی ارادروں کا موازنہ کرلیا جائے تو ایک عام شہری کے لئے بھی اس بات کا اندازہ لگانا آسان ہوجائے گا کہ اس دوڑ میں کس ملک کے جیتنے کے زیادہ امکان ہیں۔

قیام سے اب تک

پاکستانی خلائی ادارہ، جس کا مکمل نام “سپیس اینڈ اپر اٹموسفئیر ریسرچ کمیشن (سپارکو)” ہے، ١٦ ستمبر ١٩٦١ میں قائم کیا گیا۔ اس وقت سپارکو کی سربراہی پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹرعبدالسلام کر رہے تھے اور شاید یہی وجہ ہے کہ سپارکو اپنے قیام کے بعد متحرک دکھائی دیا۔ 7 جون ١٩٦٢ء کو بھی سپارکو کی طرف سے ایک راکٹ لانچ کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ اس راکٹ کو ‘راہبر ١” کا نام دیا گیا لیکن یہ راکٹ کوئی سیٹلائٹ یا خلائی گاڑی اپنے ساتھ نہیں لے کر گیا تھا۔ اسی طرح کے چھوٹے راکٹ لانچ ١٩٧٢ تک جاری رہے اور یوں لگ رہا تھا جیسے پاکستان کا یہ نومولود خلائی ادارہ خلا میں جانے کے لئے تیاریاں کررہا تھا لیکن ١٩٧٠ء اور ١٩٨٠ء کی دہائی میں پاکستان میں سیاسی نظام میں بدنظمی پیدا ہونے کی وجہ سے سپارکو کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان کی پہلی سیٹلائٹ کو ١٩٩٠ء تک ملتوی کردیا گیا۔ ١٩٩٠ء میں پاکستان کے حالات اتنے خراب ہو چکے تھے کہ پاکستان جو ١٩٦٢ء سے ١٩٧٢ تک خود راکٹ لانچ کر رہا تھا، اب اسے اپنی اس سیٹلائٹ ‘بدر ١’ کو زمین کے گرد پہنچانے کے لئے چین کی مدد لینی پڑی۔

پاکستان کا چین سے مدد لینا بدر ١ کو خلا میں پہنچانے کے لئے تو کارآمد ثابت ہوا لیکن اس کا سپارکو پر بہت برا اثر ہوا جس کے نتیجے میں پاکستان اب تک ‘بدر بی’ (٢٠٠١ء میں)، ‘پاک سیٹ ١ آر’ (٢٠١١ میں) اور جولائی ٢٠١٨ میں اپنی دو مواصلاتی سیٹیلائٹس چین ہی کی مدد سے خلا میں بھیج چکا ہے، یعنی پاکستان اب خود سے راکٹ لانچ کرنے کے لئے اقدامات نہیں کر رہا بلکہ چین کو ہی اپنا ہم سر بنایا ہوا ہے۔

اس کے برعکس اگر ہم بھارتی خلائی ادارے کی بات کریں تو یہ ادارہ سپارکو کے قیام کے تقریبا 8 سال بعد وجود میں آیا اور حیران کن بات یہ ہے کہ آج بھارت درجنوں مواصلاتی سیارے، خلائی رصدگاہیں زمین کے گرد بھیج چکا ہے اور اس کے علاوہ ٢٠٠٨ء میں ‘چاندریان ١’ نامی خلائی گاڑی چاند کے گرد بھی بھیج چکا ہے۔ اس بھارتی خلائی گاڑی کی ایک اور دریافت یہ ہے کہ اس کے حال ہی میں چاند کی سطح کے نیچے پانی کی موجودگی ظاہر کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے ٥ نومبر ٢٠١٣ کو سیارہ مریخ کی طرف اپنا صرف 8۔4 ارب روپے میں بنائی گئی ‘منگل یاں ١’ بھیجی اور پہلی ہی دفعہ میں مریخ کے گرد مدار میں گردش کرنے لگی۔ یہ بھارتی خلائی ادارے کے لئے ایک بڑی کامیابی تھی کیونکہ اس سے پہلے امریکا، یورپ اور چین بھی مریخ کی طرف اپنی خلائی گاڑی بھیج چکے ہیں لیکن پہلی دفعہ میں بھارت کے علاوہ کسی کو کامیابی نہیں حاصل ہوئی۔ اس کامیابی کے بعد بھارتی خلائی ادارہ دنیا کے کارآمد خلائی اداروں میں سے ایک ہوگیا۔

اگر ہم بھارتی خلائی ادارے کے قیام کے بعد کی بات کریں تو ایسا نہیں ہے کہ بھارت شروع سے ہی اپنی سرزمین سے خلائی تجربات کر رہا ہے بلکہ بھارت نے صرف ١٩٧٥ اور ١٩٧٩ میں لانچ ہونے والی اپنی پہلی دو سیٹیلائٹس سووئیت یونین پروگرام کے ذریعے لانچ کی لیکن پاکستان کی طرح ہمیشہ کی طرح ان پر انحصار نہیں کیا بلکہ اسی دوران اپنی “لانچ فیسلٹی” تیاری کرلی اور 7 جون ١٩٧٩ کو سووئیت یونین سے لانچ ہونے والی بھارتی سیٹلائٹ کے بعد تقریبا ٢ ماہ بعد ہی بھارت سے سیٹلائٹ لانچ کرنے کی کوشش کی جو کہ ناکام رہی لیکن اگلے ہی سال دوبارہ بھارتی سرزمین سے سیٹلائٹ لانچ کرکے بھارت اپنے خلائی تسخیر کے اس سفر میں خود مختار ہوگیا۔ اس کے بعد سے اب تک بھارت اپنی ہی سرزمین سے ١٠٠ سے زائد سیٹیلائٹس اور خلائی مشنز لانچ کرچکا ہے۔

ادارے کے سربراہ

یہ بات اکثر کہیں جاتی ہے کہ کسی بھی ادارے کے عروج و زوال کا دارومدار اس کے سربراہان پر ہوتا ہے۔ یہ بات دونوں ہمساؤں کے خلائی اداروں پر بلکل ٹھیک ثابت ہوتی ہے کیونکہ اگر سپارکو کی بات کی جائے تو یہ ادارہ پاکستان کے مشہور سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی سربراہی میں قیام پذیر ہوا تو چونکہ یہ سائنسی ادارہ کسی سائنسدان کی سربراہی میں کام کر رہا تھا، اس لئے یہ اپنی ابتدا میں متحرک تھا۔ اسی طرح بھارتی خلائی ادارہ بھی ایک سائنسدان ‘وکرم سرابھائی’ کی سربراہی میں تیزی سے کام کرتا رہا۔ لیکن بعد میں بھارتی خلائی ادارے کے سربراہان تو سائنسدان ہی رہے لیکن پاکستان خلائی ادارے سپارکو کے سربراہ ہونے کا عزاز سائنسدانوں کی بجاے فوجی جنرلوں کو حاصل ہوگیا جس کی وجہ سے سپارکو کا آج عالمی سطح پر کوئی نام و نشان ہی نہیں اور نہ ہی پاکستانی عوام کو اس ادارے کے بارے میں معلومات ہے۔

حکومتی لاپرواہی

ان خلائی اداروں کی بات ہو ہی رہی ہیں تو حکومت کے اس بارے میں اقدامات پر بھی نظر دوڑائی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ مندرجہ بلا ذکر کیا گیا ہے کہ ١٩٧٠ سے ١٩٩٠ تک کی سیاسی بدنظمی کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر برا اثر ہوا تو اسی طرح تمام حکومتی ادارے بھی ساتھ ہی خراب ہویے لیکن آج اگر سپارکو کے کسی ممبر سے بات کی جائے تو جواب میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ سپارکو کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے جس وجہ سے یہ ادارہ صحیح سے کام نہیں کر پا رہا۔ سال ٢٠١٨-٢٠١٩ کے لئے حکومت پاکستان کے سپارکو کا بجٹ صرف 4۔7 ارب روپے رکھا ہے جو کہ انتہائی کم ہے۔

اس کے بر عکس اگر بھارتی حکومت اور ان کے ادارے کو دیکھا جائے تو بھارتی خلائی ادارے کا سال ٢٠١٨-٢٠١٩ کا بجٹ تقریبا ١٩٥ ارب پاکستانی روپے ہے۔

 

اس کی وجہ اگر کسی سیاستداں، جو کہ حکومت میں کسی اہم عہدے پر ہو، سے پوچھی جائے تو جواب میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ پاکستان میں پانی، خوراک اور باقی مسائل بہت زیادہ ہے لہذا اس خلائی ادارے اور فلکیاتی تگ و دو حکومتی ترجیحات میں بہت نیچے ہیں۔ اس بات میں یقینا سچائی موجود ہے لیکن اگر ہم بھارت کو دیکھیں تو بھارت کو بھی یہی مسائل درپیش ہیں، وہاں بھی بہت سے لوگ خوراک کی قلّت کی وجہ سے مرتے ہیں لیکن پھر بھی بھارت جنوری ٢٠١٩ میں اپنی دوسری خلائی گاڑی “چاندریان – ٢” چاند کی طرف بھیجنے کے لئے تیار ہے۔

اب اگر ہم بھارت اور پاکستان کے ٢٠٢٢ تک خلا میں اپنا پہلے خلاباز کو بھیجنے کے بیان پر دوبارہ سے نظر دوڑائیں تو صاف ظاہر ہے کہ اس خلائی دوڑ میں بھارت کے جیتنے کے زیادہ امکانات ہیں کیونکہ بھارتی خلائی ادارے نے نہ صرف خلا تک رسائی حاصل کی ہے بلکہ اپنی قوم کے نوجوانوں میں فلکیاتی تعلیم کو بھی عام کیا ہے تاکہ وہی نوجوان سائنسدان اپنے ملک کے خلائی ادارے میں کام کرسکیں۔

خلائی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے لئے جن چیزوں کا ہونا ضروری ہے وہ سپارکو کے پاس موجود نہیں لہذا سپارکو کو ابھی خود مختار ہونے کی اور اپنی عوام میں فلکیات کا شوق پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں بہت سی خوبیاں ہیں جس سے ہم اپنی قوم میں فلکیاتی جوش و جذبہ پیدا کر سکتے ہیں۔ ان خوبیوں میں سرفہرست صوبہ بلوچستان، جس کو عام طور پر بنجر اور بیکار سمجھا جاتا ہے،  ہے۔ اس صوبے میں اگر رصدگاہ بنائی جائے تو پاکستان بھی فلکیاتی ریسیرچوں میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی علاقاجات بھی رات میں فلکیاتی مشاہدوں کے لئے کافی ہیں۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ فلکیاتی و خلائی پیش رفت حکومتی اقدام فلحال یہ ہونے چاہیے کہ عوام کے لئے فلکیاتی ورکشاپ اور سیمینار کرواے جایں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس ملک میں بہت سے قابل سائنسدانوں کی کمی نہیں اور وہ سپارکو کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ لیکن اگر حکومت کوئی اقدامات نہیں کرتی تو پھر عام عوام اپنے اس فلکیاتی شوق کو پورا کرنے کے لئے “اپنی مدد آپ” کے تحت فلکیاتی سوسائٹیز اور فلکیاتی رصدگاہیں بنا لیتی ہیں اور یہ فلکیاتی سوسائٹیز ملک کے مختلف شہروں میں کام کررہی ہیں۔ واضع رہے کہ پاکستان میں لاہور اور کراچی میں موجود رصدگاہیں عالمی سطح پر ناسا اور باقی سائنسدانوں کو فلکیاتی ڈیٹا مہیا کر رہی ہیں۔

پوسٹ کوآگے پھیلائیں