لاکھوں نوری سال دور فلکی اجسام کا سائز کیسے معلوم کیا جاتا ہے اور زمین اور ستارے کے درمیان کے فاصلہ کی پیمائش کا کیا طریقہ کار ہے؟

Share on facebook
Facebook
Share on twitter
Twitter
Share on linkedin
LinkedIn
Share on pinterest
Pinterest

سوال: منیب بھائی! یہ بتائیں کہ لاکھوں نوری سال دور فلکی اجسام کا سائز کیسے معلوم کیا جاتا ہے؟  زمین اور ستارے کے درمیان کے فاصلہ کی پیمائش کا کیا طریقہ کار ہے؟

Answer by Syed Muneeb Ali

جواب : ہم اس جسم تک کا فاصلہ اور آسمان میں اسکا کونی قطر (angular diameter) معلوم کرتے ہیں۔ پھر S=d * angle کے استعمال سے اس چیز کا اصل قطر معلوم کیا جاتا ہے۔

فلکیات میں فاصلہ ماپنے کا پیمانہ کوئی ایک نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر پیمانہ ایک حد تک جا کر اپنی accuracy کھو دیتا ہے جس کی وجہ سے سائنسدانوں نے بہت سے طریقے ڈھونڈھ لئے ہیں۔

زمین سے قریب موجود اجسام کے لئے ریڈار رنجنگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسے چاند پر ریفلکٹور موجود ہیں تو زمین سے لیزر کے ذریعے چاند تک کا فاصلہ ماپا جاسکتا ہے۔ اسی طرح مریخ، زہرہ، عطارد اور سورج تک کا فاصلہ اسی طرح معلوم کیا گیا ہے۔

یہ طریقہ سینکڑوں نوری سال دور ستاروں کے لئے استعمال نہیں ہوسکتا اس لئے ہم یہاں ٹریگنومیٹری کا استعمال کرتے ہیں اور اس طریقے کو پرالاکس میتھڈ کہا جاتا ہے۔

اسی طرح ہزاروں نوری سال دور ستاروں کے لئے ہم “مین sequence فٹنگ” کے طریقے کا استعمال کرتے ہیں جس میں ہم ستارے سے آنے والی روشنی کے سپیکٹرم کو دیکھ کر HR diagram کے استعمال سے ہم معلوم کرتے ہیں کہ ستارہ کس sequence کا ہے اور پھر اس طرح کے ستارے کی اصل تپش اور تجرباتی تپش کا موازنہ کرکے بتاتے ہیں کہ یہ ستارہ کتنے فاصلے پر موجود ہے۔

پھر آتے ہیں ایک خاص طرح کے ستارے جنہیں ہم cephieds کہتے ہیں۔ اس میں بھی ہم ستارے کی اصل اور تجرباتی تپش (intensity) کا موازنہ کرکے فاصلہ معلوم کیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ cephieds کیا ہیں؟ یہ خاص طرح کہ ستارے ہیں جو ایک خاص فریکوئنسی سے ٹمٹماتے ہیں۔ (سائنسدانوں نے andromeda کہکشاں میں موجود اسی ستاروں کی مدد سے فاصلہ معلوم کیا ہے)۔ cephieds کو سٹینڈرڈ candles بھی کہا جاتا ہے۔

اب آتے ہیں وہ اجسام جو کروڑوں نوری سال دور ہیں۔ ان اجسام میں کہکشائیں شامل ہے۔ ان تک کا فاصلہ ماپنے کے لئے ہم ریاضی کے اصولوں اور فزکس کے قوانین کا سہارا لیتے ہیں. اس میں ٹولی فیشر ریلیشن شامل ہے جس میں ہم سپایرل کہکشاؤں کی روشنی اور گھومنے کی رفتار ماپتے ہیں اور پھر مساوات کے ذریعے ان تک کا فاصلہ ماپ لیتے ہیں۔

آخر میں اربوں نوری سال کا فاصلہ ماپنے کے لئے ہم وائٹ دوارف سپر نوا، جنہیں ٹائپ 1a سپرنووا بھیstyle=”color: #333333; text-decoration: underline;” کہا جاتا ہے، کا استعمال کرتے ہیں. سپرنووا دو ستاروں کے جوڑے میں ہوتا ہے جس میں ایک ستارہ اپنی آخر عمر میں ہوتا ہے جبکہ اسکا ساتھ وائٹ دوارف ہوتا ہے. بوڑھے ستارے کا مادہ وائٹ دوارف کی کشش سے کھچا چلا جاتا ہے اور جب اس وائٹ دوارف پر 1.4 سورج کے مادے کے برابر مادہ (اسے چندرا شیکھر لمٹ کہا جاتا ہے) جما ہوجاتا ہے تو یہ ستارہ زور دار دھماکے کی شکل میں پھٹتا ہے اور اسے ٹائپ 1a سپرنووا کہتے ہیں. تقریبا تمام سپرنووا کی روشنی بہت تیز اور ایک جتنی ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ہم اصل اور تجرباتی روشنیوں کا موازنہ کرکے اربوں نوری سال کا فاصلہ معلوم کرسکتے ہیں.
مزے کی بات یہ ہے کہ اسی ٹائپ 1a سپرنووا کی مدد سے ہم نے کائنات کے پھیلنے کی رفتار ماپی اور بتایا کہ کائنات کے پھیلنے کی رفتار وقت کے ساتھ ساتھ کم نہیں بلکہ زیادہ ہو رہی ہے (اسی سے ڈارک انرجی کا کانسپٹ دیا گیا). یہ بات ١٩٩٨ء میں پروفیسر ڈاکٹر آدم ریس، ڈاکٹر برائن شمٹ (جو اب آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہیں) اور انکے ساتھ نے دنیا کو بتائی اور اسی پر ٢٠١١ میں انہیں نوبل انعام بھی دیا گیا۔ انہوں نے ایک کانسٹنٹ بھی متعارف کروایا جسے ہبل کانسٹنٹ کہتے ہیں اور یہ کانسٹنٹ کائناتی فاصلوں کو ماپنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

اسی ٹوپک پر ہمارے اپنے ڈاکٹر Salman Hameed کی ویڈیو ملاحظہ کریں:

پوسٹ کوآگے پھیلائیں